(۲۱۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَعَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی أَنْ أَغْرِسَ لَہُمْ خَمْسَمِائَۃِ فَسِیلَۃٍ فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَہُمْ فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّی فَآذَنْتُہُ فَجَائَ فَجَعَلَ یَغْرِسُ إِلاَّ وَاحِدَۃً غَرَسْتُہَا بِیَدِی فَعَلِقْنَ جَمِیعًا إِلاَّ الْوَاحِدَۃَ۔ [ضعیف]
(٢١٦٢٤) ابو عثمان سلمان سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کی کہ میں پانچ سو درخت لگا کر دوں گا۔ جب وہ پھل دینے لگیں گے تو میں آزاد ہوجاؤں گا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا تذکرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درخت لگاؤ اور شرط رکھ لو لیکن جب درخت لگانے کا ارادہ ہو مجھے اطلاع دے دینا۔ میں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ ایک درخت کے علاوہ تمام درخت اپنے ہاتھ سے لگائے۔ تمام درختوں نے پھل دینا شروع کردیا سوائے ایک کے۔