(۲۱۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنِ الْعَلاَئِ الْجَزَرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا مَیْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْہَاشِمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَیْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیُّمَا مُکَاتَبٍ کُوتِبَ عَلَی أَلْفِ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَ أَوَاقٍ فَہُوَ عَبْدٌ وَأَیُّمَا مُکَاتَبٍ کُوتِبَ عَلَی مِائَۃِ دِینَارٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَۃَ دَنَانِیرَ فَہُوَ عَبْدٌ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ : أَیُّمَا عَبْدٍ کَاتَبَ عَلَی مِائَۃِ دِینَارٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَۃَ دَنَانِیرَ فَہُوَ عَبْدٌ وَأَیُّمَا عَبْدٍ کَاتَبَ عَلَی مِائَۃِ أُوقِیَّۃٍ فَأَدَّاہَا إِلاَّ عَشْرَ أَوَاقٍ فَہُوَ عَبْدٌ ۔وَرَوَاہُ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَیْرِیِّ۔ [صحیح لغیرہ]
(٢١٦٣٦) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ دادا سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس سے ایک ہزار اوقیہ پر مکاتبت کی گئی، اس نے ١٠ اوقیوں کے علاوہ سب ادا کردیے تو وہ غلام ہی ہے اور جس سے ایک سو دینار پر مکاتبت کی گئی اس نے تمام ادا کردیے لیکن ١٠ دینار باقی تھے۔ وہ غلام ہی ہے۔
(ب) عمرو بن عاصم اور ابو ولید کی روایت میں ہے کہ جو جس غلام سے سو دینار کے عوض مکاتبت کی گئی، اس نے تمام ادا کردیے۔ صرف دس دینار اس کے ذمہ تھے تو وہ غلام ہی رہے گا اور جس غلام سے سو اوقیہ کے عوض مکاتبت کی گئی صرف ١٠ اوقیے باقی رہ گئے تو وہ غلام ہی رہے گا۔