(۲۱۶۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ فِی بَرِیرَۃَ ثَلاَثُ سُنَنٍ خُیِّرَتْ عَلَی زَوْجِہَا حِینَ أُعْتِقَتْ وَأُہْدِیَ لَہَا لَحْمٌ فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالْبُرْمَۃُ عَلَی النَّارِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأُتِیَ بِخُبْزٍ وَأَدَمٍ مِنْ أَدَمِ الْبَیْتِ فَقَالَ : أَلَمْ أَرَ بُرْمَۃً عَلَی النَّارِ فِیہَا لَحْمٌ؟ ۔ قَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ ذَلِکَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِہِ عَلَی بَرِیرَۃَ فَکَرِہْنَا أَنْ نُطْعِمَکَ مِنْہِ فَقَالَ : ہُوَ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ وَہُوَ مِنْہَا لَنَا ہَدِیَّۃً ۔ وَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِیہَا : إِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [ضعیف۔ متفق علیہ]
(٢١٦٦٥) قاسم بن محمد حضرت عائشہ (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ بریرہ کے بارے میں تین طریقے ہیں تھے :
1 آزادی کے بعد اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا 2 اور اس کو گوشت تحفے میں دیا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور ہنڈیا آگ پر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانا مانگا تو روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے چولہے پر پڑی ہوئی ہنڈیا پر گوشت نہیں دیکھا۔ عرض کیا : یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے تو ہم نے ناپسند کیا کہ آپ کو کھلائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے اور فرمایا کہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔