(۲۱۶۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ دِرْہَمٌ لاَ یَرِثُ وَلاَ یُورَّثُ۔ وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ إِذَا مَاتَ الْمُکَاتَبُ وَتَرَکَ مَالاً قُسِّمَ مَا تَرَکَ عَلَی مَا أَدَّی وَعَلَی مَا بَقِیَ فَمَا أَصَابَ مَا أَدَّی فَلِلْوَرَثَۃِ وَمَا أَصَابَ مَا بَقِیَ فَلِمَوَالِیہِ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ یُؤَدَّی إِلَی مَوَالِیہِ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ مُکَاتَبَتِہِ وَلِوَرَثَتِہِ مَا بَقِیَ۔ [ضعیف]
(٢١٦٨٣) شعبی حضرت زید بن ثابت سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی ہے جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے، نہ وہ وارث ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کا وارث ہوگا۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ مکاتب کا مال اس کی ادائیگی کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا۔ جو ادا کردیا اس کے حساب سے اس کے ورثاء کو ملے گا، باقی آزاد کرنے والوں کو اور عبداللہ فرماتے ہیں کہ مکاتب کا مال آزاد کرنے والوں کو ملے گا اور باقی ماندہ ورثاء کے لیے ہے۔