(۲۱۷۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ اللَّیْثِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : اشْتَرَتْنِی امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ بِسُوقِ ذِی الْمَجَازِ بِسَبْعِمِائَۃِ دِرْہَمٍ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَکَاتَبَتْنِی عَلَی أَرْبَعِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ فَأَدَّیْتُ إِلَیْہَا عَامَّۃَ ذَلِکَ قَالَ ثُمَّ حَمَلْتُ مَا بَقِیَ إِلَیْہَا فَقُلْتُ ہَذَا مَالُکِ فَاقْبِضِیہِ قَالَتْ لاَ وَاللَّہِ حَتَّی آخُذَہُ مِنْکَ شَہْرًا بِشَہْرٍ وَسَنَۃً بِسَنَۃٍ فَخَرَجَتُ بِہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ادْفَعْہُ إِلَی بَیْتِ الْمَالِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہَا فَقَالَ ہَذَا مَالُکِ فِی بَیْتِ الْمَالِ وَقَدْ عَتَقَ أَبُو سَعِیدٍ فَإِنْ شِئْتِ فَخُذِی شَہْرًا بِشَہْرٍ وَسَنَۃً بِسَنَۃٍ قَالَ فَأَرْسَلَتْ فَأَخَذَتْہُ
قَالَ أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ : ہَذَا حَدِیثٌ حُسْنٌ۔ [ضعیف]
(٢١٧٠٨) سعید بن ابی سعید مقبری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کی ایک عورت نے ذی المحاز بازار میں مجھے سات سو درہم کا خرید لیا۔ پھر میں مدینہ آیا، اس نے ٤٠ ہزار درہم میں مجھ سے مکاتبت کرلی۔ میں نے اسی سال ادا کردی۔ پھر باقی ماندہ اٹھا کر اس کے پاس لے گیا کہ اپنا مال قبضہ میں لے لو۔ وہ کہنے لگی : اللہ کی قسم ! میں مہینہ اور سال کے حساب سے لوں گی۔ میں نے جا کر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سامنے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے : مال بیت المال میں جمع کرا دو اور اس کو پیغام دیا کہ تیرا مال بیت المال ہے اور ابو سعید آزاد ہے۔ اگر تو چاہے تو مہینہ اور سال کے اعتبار سے حاصل کرتی رہنا، فرماتے ہیں کہ اس نے پھر مال حاصل کرلیا۔