(۲۱۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُوعَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی یُونُسَ مَوْلَی عَائِشَۃَ أَنَّہُ قَالَ: أَمَرَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنْ أَکْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، ثُمَّ قَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ ہَذِہِ الآیَۃَ فَآذِنِّی {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی} [البقرۃ: ۲۳۸] فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَمْلَتْ عَلَیَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ (ق) وَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْوُسْطَی غَیْرُ الْعَصْرِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۲۹]
(٢١٧٣) (ا) ام المومنین سیدہ عائشہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے کہ آپ (رض) نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں۔ پھر فرمانے لگیں کہ جب تم اس آیت پر پہنچو تو مجھے بتانا { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی } (البقرۃ : ٢٣٨) ” نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی “۔ جب میں اس مقام پر پہنچا تو میں نے انھیں بتایا تو انھوں نے مجھے لکھوایا :{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور عصر کی نماز کی بھی اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہو کر کھڑے ہوجاؤ۔ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے یہ رسول اللہ سے سنا ہے۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ عصر کی نماز الگ ہے اور درمیانی نماز الگ۔