(۲۱۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: الصَّلاَۃُ الْوُسْطَی الصُّبْحُ۔
وَرُوِّینَاہُ أَیْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَاحْتَجَّ بِمَا احْتَجَّ بِہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَہُوَ قَوْلُ عَطَائٍ وَطَاوُسٍ وَمُجَاہِدٍ وَعِکْرِمَۃَ۔ وَمَنْ قَالَ بِہِ احْتَجَّ بِمَا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن ابی شبیۃ ۸۶۱۶]
(٢١٧٢) (ا) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ درمیانی نماز صبح کی نماز ہے۔
(ب) اسی طرح یہ روایت انس بن مالک (رض) سے بھی منقول ہے اور انھوں نے بھی اس سے وہ دلیل حاصل کی ہے جو ابن عباس (رض) نے حاصل کی ہے۔ طاؤس، مجاہد، عکرمہ اور عطا کا بھی یہی قول ہے۔