(۲۱۷۳۴) وَبِہَذَا الْمَعْنَی رَوَاہُ الزُّہْرِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عنہا تَسْتَعِینُہَا فِی کِتَابَتِہَا وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِہَا شَیْئًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ارْجِعِی إِلَی أَہْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِیَ عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَیَکُونَ وَلاَؤُکِ لِی فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِیرَۃُ لأَہْلِہَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَائَ تْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَیْکِ فَلْتَفْعَلْ وَیَکُونَ لَنَا وَلاَؤُکِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ابْتَاعِی وَأَعْتِقِی فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا بَالُ أُنَاسٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَلَیْسَ لَہُ وَإِنْ شَرَطَہُ مِائَۃَ مَرَّۃٍ شَرَطُ اللَّہِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٧٣٤) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، وہ اپنی کتابت میں مدد طلب کر رہی تھی۔ ابھی اس نے کتابت سے کچھ ادا نہ کیا تھا، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ۔ اگر پسند کریں تو میں رقم ادا کردیتی ہوں، لیکن ولاء میری ہوگی تو میں ایسا کرتی ہوں بریرہ (رض) نے اپنے گھر والوں کے سامنے تذکرہ کیا تو انھوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے : اگر حضرت عائشہ (رض) آپ پر احسان کرنا چاہتی ہیں تو ایسا کرلیں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا : لوگوں کو کیا ہے، ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگرچہ وہ سو شرائط بھی ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کے اعتبار سے زیادہ حق دار ہیں۔