(۲۱۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَیُّوبَ الْمَتُّوثِیُّ أَنْبَأَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ فَاشْتَرَطُوا عَلَیْہَا الْوَلاَئَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اشْتَرِیہَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٧٣٥) اسود حضرت عائشہ (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ فرمایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید لو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔