(۲۱۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَمَرَتْ حَفْصَۃُ بِمُصْحَفٍ یُکْتَبُ لَہَا ، فَقَالَتْ لِلَّذِی یَکْتُبُ: إِذَا أَتَیْتَ عَلَی ذِکْرِ الصَّلاَۃِ فَذَرْ مَوْضِعَہَا حَتَّی أُعْلِمَکَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ۔ فَفَعَلَ فَکَتَبَتْ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ۔ قَالَ نَافِعٌ: فَرَأَیْتُ الْوَاوَ مُعَلَّقَۃً۔
وَہَذَا مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ إِرْسَالاً مِنْ جِہَۃِ نَافِعٍ ثُمَّ أَکَّدَہُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْ رُؤْیَتِہِ وَحَدِیثُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرٍو الْکَاتِبِ مَوْصُولٌ وَإِنْ کَانَ مَوْقُوفًا فَہُوَ شَاہِدٌ لِصِحَّۃِ رِوَایَۃِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ۔
وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ وَنَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ کِلاَہُمَا عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِی زَمَانِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَاسْتَکْتَبَتْنِی حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ مُصْحَفًا لَہَا فَقَالَتْ لِی: أَیْ بُنَیَّ إِذَا انْتَہَیْتَ إِلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی} فَلاَ تَکْتُبْہَا حَتَّی تَأْتِیَنِی فَأُمِلَّہَا عَلَیْکَ کَمَا حَفِظْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ فَلَمَّا انْتَہَیْتُ إِلَیْہَا حَمَلْتُ الْوَرَقَۃَ وَالدَّوَاۃَ حَتَّی جِئْتُہَا فَقَالَتْ: ((اکْتُبْ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی ہِیَ صَلاَۃُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن جریر ۲/۵۶۹]
(٢١٧٥) (ا) نافع سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ (رض) نے کاتب کو اس مصحف کے بارے میں حکم دیا جو ان کے لیے لکھا جا رہا تھا کہ جب تو نماز کے ذکر تک پہنچے تو اس کی جگہ خالی چھوڑ دینا، تاکہ میں تجھے وہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے ہوئے سنا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ آپ (رض) نے لکھوایا : { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ } ” نماز پر محافظت کرو، درمیانی نماز اور عصر کی نماز پر بھی محافظت کرو۔ نافع کہتے ہیں : میں نے واؤ کو معلق دیکھا ہے۔
(ب) یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگر وہ موقوف ہو تو عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت صحیح ہے۔
ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو عمر بن خطاب (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو حفصہ بنت عمر (رض) مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا : اے بیٹے ! جب تو اس آیت پر پہنچے :{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی } تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں نے ورق اور قلم د وات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا : لکھو :{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ }