hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21762

.

سنن البيهقي

21762
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَاتَبَ غُلاَمًا لَہُ یُقَالُ لَہُ شَرْفًا بِأَرْبَعِینَ أَلْفًا فَخَرَجَ إِلَی الْکُوفَۃِ فَکَانَ یَعْمَلُ عَلَی حُمُرٍ لَہُ حَتَّی أَدَّی خَمْسَۃَ عَشَرَ أَلْفًا فَجَائَ ہُ إِنْسَانٌ فَقَالَ مَجْنُونٌ أَنْتَ أَنْتَ ہَا ہُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَکَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَشْتَرِی الرَّقِیقَ یَمِینًا وَشِمَالاً ثُمَّ یُعْتِقُہُمَ ارْجَعْ إِلَیْہِ فَقَلْ لَہُ قَدْ عَجَزْتُ فَجَائَ إِلَیْہِ بِصَحِیفَتِہِ فَقَالَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ عَجَزْتُ وَہَذِہِ صَحِیفَتِی فَامْحُہَا فَقَالَ لاَ وَلَکِنِ امْحُہَا إِنْ شِئْتَ فَمَحَاہَا فَفَاضَتْ عَیْنَا عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ قَالَ أَصْلَحَکَ اللَّہُ أَحْسِنْ إِلَی ابْنیَّ قَالَ ہُمَا حُرَّانِ قَالَ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ أَحْسِنْ إِلَی أُمَّیْ وَلَدَیَّ قَالَ ہُمَا حُرَّتَانِ فَأَعْتَقَہُمْ خَمْسَتَہُمْ جَمِیعًا فِی مَقْعَدٍ۔ [صحیح]
(٢١٧٥٦) عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام سے ٤٠ ہزار میں مکاتبت کی۔ اس کا نام شرف تھا۔ وہ کوفہ گیا گدھوں پر کام کرتا تھا تو ١٥ ہزار لے کردیے۔ پھر ایک انسان آیا اس نے کہا : آپ پاگل ہیں کہ عبداللہ بن عمر غلام خرید کر آزاد کرتے ہیں۔ تو نے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے، ان کے پاس جاؤ اور جا کر کہنا، میں عاجز آگیا ہوں، وہ اپنے ساتھ تحریر بھی لے کر آیا، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں عاجز آگیا ہوں یہ تحریر ہے ختم کر دو تو یعنی عبداللہ بن عمر کہنے لگے : اگر چاہو تو مٹا دو ، میں نہ مٹاؤں گا، اس نے مٹا دیا تو ابن عمر کی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں۔ فرمانے لگے : جاؤ تم آزاد ہو۔ اس نے کہا : اللہ آپ کو بھلائی دے میرے بیٹوں پر بھی احسان فرمائیں، فرمایا : وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔ اس نے کہا : میرے بچوں کی والدہ کو بھی۔ فرمایا : وہ بھی آزاد ہے۔ ایک جگہ بیٹھے ہی ان پانچوں کو آزاد کردیا۔