(۲۱۷۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ السَّکَنِ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ قَال عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نَاظَرَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَقُلْتُ یُبَعْنَ وَقَالَ لاَ یُبَعْنَ قَالَ فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ یُرَاجِعُنِی حَتَّی قُلْتُ بِقَوْلِہِ فَقَضَی بِذَلِکَ حَیَاتَہُ فَلَمَّا أَفْضَی الأَمْرُ إِلَیَّ رَأَیْتُ أَنْ یُبَعْنَ۔
قَالَ الشَّعْبِیُّ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِیٍّ فَرَأْیُکَ وَرَأَیُ عُمَرَ فِی الْجَمَاعَۃِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ رَأْیِکَ وَحْدَکَ فِی الْفُرْقَۃِ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِہِ۔ [ضعیف]
(٢١٧٦٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے مجھ سے امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں مناظر ہ کیا، میں نے کہا : فروخت کی جائے گی اور وہ فرماتے ہیں : فروخت نہ کی جائے گی، ہمیشہ حضرت عمر (رض) مجھ سے مراجعت فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے ان کی بات مان لی، انھوں نے اپنی زندگی میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ جب میں خلیفہ بنا تو میرا خیال تھا کہ ان کو فروخت کیا جائے، محمد بن سیرین حضرت عبیدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے کہا : تمہاری اجتماعی سوچ مجھے زیادہ محبوب ہے، تمہارے اکیلے کی رائے سے۔