(۲۱۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبِیدَۃَ السَّلْمَانِیِّ قَالَ قَال عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اسْتَشَارَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَیْعِ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ فَرَأَیْتُ أَنَا وَہُوَ أَنَّہَا عَتِیقَۃٌ فَقَضَی بِہَا عُمَرُ حَیَاتَہُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بَعْدَہُ فَلَمَّا وَلِیتُ أَنَا رَأَیْتُ أَنْ أَرِقَّہُنَّ۔ قَالَ فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ أَنَّہُ سَأَلَ عَبِیدَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَیُّہُمَا أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ رَأْیُ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا جَمِیعًا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ رَأَیِّ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ أَدْرَکَ الاِخْتِلاَفَ۔ [صحیح]
(٢١٧٦٦) حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب نے مجھ سے مشورہ کیا، میں اس کو آزاد خیال کرتا تھا تو حضرت عمر (رض) نے اور ان کے بعد حضرت عثمان (رض) نے بھی یہی فیصلہ فرمایا، جب میں خلیفہ بنا تو میں ان کو غلام خیال کرتا تھا، محمد بن سیرین نے حضرت عبیدہ سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ کونسی رائے آپ کو زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا : حضرت عمر، علی (رض) کی رائے کو میں زیادہ محبوب جانتا ہوں، جب حضرت علی (رض) نے اختلاف کو پا لیا