hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21776

.

سنن البيهقي

21776
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَیْمَانَ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ الْمَالِکِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ حَدَّثَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِکِ یَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِہِ فَجَلَسْتُ فِی مَجْلِسٍ لاَ أَعْرِفُہُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَہُ قَالَ کَیْفَ تَرَوْنَ فِی شَیْئٍ ذَکَرَہُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ آنِفًا أَتَاہُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ فِی أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِأَیُرْقَقْنَ أَوْ یُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ إِنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ذَکَرَ أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ کَانَ یُعْجِبُہُ عَقْلُہُ وَلِسَانُہُ ثُمَّ مَاتَ أَبُوہُ وَتَرَکَ مَالاً وَأُمُّہُ أُمُّ وَلَدٍ فَأَقَامُوا أُمَّہُ فَزَایَدُوہُ فِی أُمِّہِ حَتَّی أَخْرَجُوہُ مِنْ مِیرَاثِہِ فَمَرَّ عَلَی عُمَرَرَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَاہُ فَسَأَلَہُ مَا صَارَ لَہُ مِنْ مِیرَاثِ أَبِیہِ قَالَ خَرَجْتُ بِأُمِّی مِنْ مِیرَاثِ أَبِی فَقَالَ أَمَا وَاللَّہِ لأَقُولَنَّ فِی ذَلِکَ مَقَالاَ أَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَیُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَکَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْہُ فَہِیَ حَرَّۃٌ قَالَ فَأَخَذَ بِیَدِی فَإِذَا ہُوَ قَبِیصَۃُ بْنُ ذُؤَیْبٍ حَتَّی أَدْخَلَنِی عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِکِ ذَکَرَ لِقَبِیصَۃَ أَنَّہُ کَانَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَلَمْ یُثْبِتْہُ فَأُدْخِلَ عَلَیْہِ فَقَالَ ہَذَا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرْتَنِی فَبَدَأَ فَسَأَلَنِی مَا نَسَبِی فَلَمَّا بَلَّغْتُ أَبِی قَالَ إِنْ کَانَ أَبُوکَ لَنَعَّارًا فِی الْفِتْنَۃِ مَا حَدِیثُ سَعِیدٍ الَّذِی أَخْبَرَنِی عَنْکَ قَبِیصَۃُ؟ فَأَخْبَرْتُہُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِیصَۃَ فَأَمَرَ بِذَلِکَ فَأَمْضِیَ فَقَالَ مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَکَ مِثْلَکَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٧٧٠) ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبدالملک کسی کام میں مصروف تھے۔ میں ان کی مجلس میں بیٹھ گیا کسی کو جانتا نہ تھا۔ ایک آدمی نے متوجہ ہو کہ جگہ میں وسعت کردی۔ کہنے لگا : تمہارا کیا خیال ہے جو ابھی امیر المومنین نے ذکر کیا جو مدینہ سے حکم آیا کہ امہات الاولاد کو آزاد کیا جائے یا غلام رکھا جائے ؟ جس نے کہا کہ سعید بن مسیب نے ایک قریشی مرد کا تذکرہ کیا۔ اس کی عقل اور زبان بڑی اچھی تھی۔ اس کا باپ فوت ہوگیا۔ اس نے مال اور امِ ولد چھوڑی تو آخر کار انھوں نے اس کو وراثت سے نکال دیا۔ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس سے گزرا تو انھیں نے بلایا اور پوچھا : اس کے باپ کی واثت کا کیا بنا ؟ کہنے لگا : میں نے اپنی والدہ کو اپنے باپ کی وراثت سے نکال دیا ہے۔ فرمانے لگے کہ میں بھی لوگوں کو ایسی بات کہنے والا ہوں کہ لوگ اس سے بچیں۔ پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ جو آزاد آدمی ہو اس کے پاس ام ولد لونڈی ہو تو اس کی موت کے بعد وہ آزاد ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا ، وہ قبیصہ بن ذویب اور عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ اچانک عبدالملک نے قبیصہ کے سامنے سعید بن مسیب کا تذکرہ کردیا کہ وہ ثابت نہیں ہیں۔ جس حدیث کی خبر میں نے دی تو اس نے میرا نسب پوچھنا شروع کردیا۔ جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے کہ وہ فتنہ میں آگ لگانے والے تھے۔ وہ کونسی حدیث ہے جو آپ نے قبیصہ کو بیان کی ہے تو میں نے ان کو بھی خبر دی۔ کہنے لگے : اس طرح کا کوئی آدمی فوت ہی نہیں ہوا۔