(۲۱۸۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَبُو مُعَاذٍ عَنْ أَبِی حَرِیزٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : رُفِعَ إِلَی شُرَیْحٍ رَجُلٌ تَزَوَّجَ أَمَۃً فَوَلَدَتْ لَہُ أَوْلاَدًا ثُمَّ اشْتَرَاہَا فَرَفَعَہُمْ شُرَیْحٌ إِلَی عُبَیْدَۃَ فَقَالَ عُبَیْدَۃُ إِنَّمَا تَعْتِقُ أُمُّ الْوَلَدِ إِذَا وَلَدَتْہُمْ أَحْرَارًا فَإِذَا وَلَدَتْہُمْ مَمْلُوکِینَ فَإِنَّہَا لاَ تَعْتِقُ۔ [ضعیف]
(٢١٨٠٥) شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا فیصلہ قاضی شریح کے پاس آیا، اس نے اپنی لونڈی سے شادی کی اور اولاد بھی ہوئی۔ پھر اس کو فروخت کر دیا تو قاضی شریح نے عبیدہ کی طرف فیصلہ منتقل کر دیا تو عبیدہ نے فیصلہ کیا کہ ام ولد آزاد ہے۔ جب اس نے آزاد کی اولاد کو جنم دیا۔ جب غلام کی اولاد کو جنم دے تو آزادنہ ہوگی۔