(۲۱۸۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُوالْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ أَبُو قُدَامَۃَ عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ وَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعْرِفُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ قَالَ : أَیُّمَا وَلِیدَۃٌ وَلَدَتْ لِسَیِّدِہَا فَہِیَ لَہُ مُتْعَۃٌ مَا عَاشَ فَإِذَا مَاتَ فَہِیَ حُرَّۃٌ مِنْ بَعْدِہِ وَمَنْ وَطِئَ وَلِیدَۃً فَضَیَّعَہَا فَالْوَلَدُ لَہُ وَالضَّیْعَۃُ عَلَیْہِ۔ [صحیح]
(٢١٨٠٤) نافع نے قصہ ذکر کیا کہ ابن عمر (رض) نے پوچھا : عمر بن خطاب (رض) کو جانتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہاں فرماتے ہیں : جو، فرمایا : وہ لونڈی اپنے آقا کی اولاد کو جنم دے تو وہ اپنی زندگی میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جب فوت ہو جائے تو پھر آزاد ہے۔ جس نے لونڈی سے مجامعت کی اور اس کو حاملہ کر دیا تو اولاد اس کی ہوگی اور نقصان بھی اسی کا۔