(۲۱۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالَوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا
حَدَّثَنَا أَبُوہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((الْمَلاَئِکَۃُ یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلاَئِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلاَئِکَۃٌ بِالنَّہَارِ، یَجْتَمِعُونَ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ إِلَیْہِ الَّذِینَ بَاتُوا فِیکُمْ ، فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیَ؟ قَالُوا: تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۰۵۱]
(٢١٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس یکے بعد دیگرے فرشتے اترتے ہیں۔ کچھ دن کے فرشتے ہوتے ہیں اور کچھ رات کو اترتے ہیں۔ یہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر جنہوں نے تمہارے ہاں رات گزاری ہوتی ہے وہ رب ذوالجلال کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں، حالانکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں کہ میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : ہم جب ان کے پاس گئے تھے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب انھیں چھوڑ کر آئے ہیں تب بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔