(۲۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ:أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ:أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَحْیَی:عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَائُ بْنُ یَزِیدَ اللَّیْثِیُّ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: أَنَّہُ رَأَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَعَا بِوَضُوئٍ فَأَفْرَغَ عَلَی یَدِہِ مِنْ إِنَائِہِ فَغَسَلَہُمَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِینَہُ فِی الْوَضُوئِ ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ ، ثُمَّ غَسَلَ کُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِی ہَذَا ، ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِی ہَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ لاَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فِیہِمَا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۶۲]
(٢٢٠) سیدنا عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان (رض) نے پانی منگوایا۔ پھر برتن سے پانی اپنے ہاتھ پر ڈالا۔ پھر اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دائیں ہاتھ پانی میں ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا۔ پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے، آپ میرے اس وضو کی طرح وضو کیا کرتے تھے، پھر فرمایا : جس نے میرے اس وضو کی طرح کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں، اس کے دل میں کوئی برا خیال پیدا نہیں ہوا تو اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔