hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2190

.

سنن البيهقي

2190
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ فَصَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُحِبُّ أَنْ یُوَجَّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرۃ: ۱۴۴] الآیَۃَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ کَانَ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ یُصَلُّونَ وَہُمْ رُکُوعٌ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ فَتَحَرَّفُوا نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ وَہُمُ الْیَہُودُ {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ} [البقرۃ: ۱۴۲] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَجَائٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۰]
(٢١٩٠) براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ ماہ تک نماز پڑھتے رہے، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } (البقرۃ : ١٤٤) ” ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ ہم ضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیریں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس آپ اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔ “
ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آچکا ہے تو وہ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھرگئے۔ بعض بیوقوف لوگوں نے کہا، جو دراصل یہودی تھے : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) ” جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیر دیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرقُ وَ الْمَغْرِبُ یَھْدِی ْمَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } (البقرۃ : ١٤٢) ” کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ “