(۲۱۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُونَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ ، وَأَنَّہُ صَلَّی صَلاَۃَ الْعَصْرِ وَصَلَّی مَعَہُ قَوْمٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ صَلَّی مَعَہُ ، فَمَرَّ عَلَی أَہْلِ مَسْجِدٍ وَہُمْ رَاکِعُونَ ، فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللَّہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قِبَلَ مَکَّۃَ۔ فَدَارُوا کَمَا ہُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۱]
(٢١٩١) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ آپ کی دلی خواہش یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہوجائے۔ آپ نے عصر کی نماز (کعبہ کی طرف منہ کر کے) پڑھائی۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ان میں سے ایک آدمی نکلا۔ وہ ایک مسجد کے پاس سے گزرا جہاں لوگ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے اور وہ حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ (بیت اللہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر وہ لوگ فوراً بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔