(۲۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَالْکَعْبَۃُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَبَعْدَ مَا تَحَوَّلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، ثُمَّ صَرَفَہُ اللَّہُ تَعَالَی إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۵۲]
(٢١٩٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مکہ میں) بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبہ کو اپنے اور بیت المقدس کے درمیان رکھتے تھے۔ اس کے بعد جب آپ (ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔ پھر اللہ نے انھیں کعبہ کی طرف پھیر دیا۔