(۲۲۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ: أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ یُدْعَی الْمُخْدَجِیَّ سَمِعَ رَجُلاً بِالشَّامِ یُدْعَی أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔ قَالَ الْمُخْدَجِیُّ: فَرُحْتُ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَہُ وَہُوَ رَائِحٌ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ المالک فی الموطا ۱/۳۶۱]
(٢٢٢٦) ابن محیریز سے روایت ہے کہ بنو کنانہ کا ایک آدمی جسے مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ابو محمد نامی ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ و تر واجب ہیں۔ مخدجی کہتے ہیں : میں عبادہ بن صامت کی خدمت میں پہنچا اور وہ مسجد میں آرام فرما رہے تھے۔ میں نے انھیں اس کے بارے میں بتایا جو ابو محمد نے کہا تھا کہ وتر واجب ہیں تو ابوعبادہ نے فرمایا : ابو محمد جھوٹ بولتا ہے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی ذمہ داری میں جنت میں داخل کرے گا اور جو ان نمازوں کو ضائع کر دے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔