(۲۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ
أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِہِ۔ قَالَ: لَمْ یَکُنْ یُنْہَی عَنْ دُخُولِہِ ، وَلَکِنْ سَمِعْتُہُ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا دَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِی نَوَاحِیہِ کُلِّہَا ، وَلَمْ یُصَلِّ فِیہِ حَتَّی خَرَجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی قِبَلِ الْکَعْبَۃِ ثُمَّ قَالَ: ((ہَذِہِ الْقِبْلَۃُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ دُونَ قِصَّۃِ الدُّخُولِ عَنْ عَطَائٍ وَدُونَ ذِکْرِ أُسَامَۃَ ، وَالصَّحِیحُ مَا رُوِّینَا وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِطُولِہِ وَذَکَرَ أُسَامَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری بنحوہ ۳۸۹]
(٢٢٢٩) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطا سے پوچھا : کیا تم نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں تو صرف (بیت اللہ کا) طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے اندر داخل ہونے کا نہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کے اندر داخل ہونے سے منع تو نہیں کیا، لیکن میں نے ان سے سنا ہے کہ انھیں سیدنا اسامہ بن زید (رض) نے خبر دی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام کونوں میں دعا کی، لیکن نماز نہیں پڑھی ۔ بلکہ جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ نے قبلہ رخ ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا : یہ ہے قبلہ۔