(۲۲۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ بِالرَّیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ فِیمَا ذُکِرَ لَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ شَأْنُ الْقِبْلَۃِ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، وَتَرَکَ الْبَیْتَ الْعَتِیقَ فَقَالَ {سَیَقُولُ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] یَعْنُونَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَنَسَخَہَا فَصَرَفَہُ اللَّہُ إِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیقِ فَقَالَ {وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُمَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ} [البقرۃ: ۱۵۰]
وَفِی کَلاَمِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بَیَانُ مَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا وَہُوَ أَنَّہُ دَخَلَ فِی مَبْسُوطِ کَلاَمِہِ فَلَمَّا ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ اسْتَقْبَلَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ مُوَلیًّا عَنِ الْبَیْتِ الْحَرَامِ وَہُوَ یُحِبَّ لَوْ قَضَی اللَّہُ لَہُ بِاسْتِقْبَالِ الْبَیْتِ الْحَرَامِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ إِلَی أَنْ أَنْزَلَ اللَّہُ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ} [البقرۃ: ۱۴۴]
قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہَا نَزَلَتْ فِی قَوْلِہِمْ {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ:۱۴۲]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الحاکم ۲/۲۹۴]
(٢٢٤٥) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ قرآن میں سے سب سے پہلے جو چیز منسوخ کی گئی آیت قبلہ ہے، یعنی { وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے اور بیت اللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : { سَیَقُوْلُ السُّفَھَائُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) عنقریب بیوقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے، یعنی بیت المقدس۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت عتیق یعنی کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ اس سلسلے میں یہ آیت اتری : { وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ } (البقرۃ : ١٥٠) ” اور آپ جہاں سے بھی نکلیں اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیریں اور تم جہاں کہیں بھی ہو تو اسی (مسجد حرام) کی طرف ہی اپنے چہروں کو پھیر لو۔ “
(ب) امام شافعی (رح) نے اس روایت کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمانے لگے، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ } (البقرۃ : ١٤٤) ” ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ “
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ آیت یہود کے اس قول کے بارے نازل ہوئی جو انھوں نے کہا ، یعنی : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) ” کس چیز نے ان کو اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر یہ تھے۔ “