hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2247

.

سنن البيهقي

2247
Sunan Al Bayhaqi
(۲۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَوَّلُ مَا نُسِخَ فِی الْقُرْآنِ الْقِبْلَۃَ ، وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، وَکَانَ أَکْثَرَ أَہْلِہَا الْیَہُودُ أَمَرَہُ اللَّہُ أَنْ یَسْتَقْبِلَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَفَرِحَتِ الْیَہُودُ فَاسْتَقْبَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِضْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُحِبُّ قِبْلَۃَ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، فَکَانَ یَدْعُو اللَّہَ وَیَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا} [البقرۃ: ۱۴۴] إِلَی قَوْلِہِ {فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ} [البقرۃ: ۱۴۴] یَعْنِی نَحْوَہُ ، فَارْتَابَ مِنْ ذَلِکَ الْیَہُودُ وَقَالُوا {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی {قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] {وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِی کُنْتَ عَلَیْہَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنْقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہِ} [البقرۃ: ۱۴۳] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلِیُمَیِّزَ أَہْلَ الْیَقِینِ مِنْ أَہْلِ الشَّکِّ وَالرِّیبَۃِ۔ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَۃٌ إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ ہَدَی اللَّہُ} [البقرۃ: ۱۴۳] یَعْنِی تَحْوِیلَہَا عَلَی أَہْلِ الشَّکِّ {إِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِینَ} [البقرۃ: ۴۵] یَعْنِی الْمُصَدِّقِینَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی قَوْلِہِ {فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ فَثَمَّ الْوَجْہُ الَّذِی وَجَّہَکُمُ اللَّہُ إِلَیْہِ۔ [ضعیف]
(٢٢٤٦) (ا) علی بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن میں سب سے پہلے جو حکم منسوخ ہوا وہ قبلہ کے بارے تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو وہاں اکثریت یہودیوں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرلیں۔ یہودی خوش ہوگئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قبلے پر سولہ یا سترہ ماہ تک رہے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ پسند فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہتے تھے اور نظر اٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف بھی دیکھتے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا } ” ہم آپ کے چہرے کا آسمان میں بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم ضرور آپ کو آپ کے پسندیدہ قبلے کی طرف پھیر دیں گے۔ “ (البقرۃ : ١٤٤) فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ اپنے چہروں کو اسی طرف پھیرو۔ “ (البقرۃ : ١٤٤) یہودیوں کو اس سے ضد ہوئی تو انھوں نے کہا : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } ” جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیرا ہے ؟ “ (البقرۃ : ١٤٢) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :{ وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } ” مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ (البقرۃ : ١١٥) { وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ } ” جس قبلہ پر آپ تھے اس کو ہم نے اس لیے بنایا تھا کہ ہم واضح کردیں کہ رسول اللہ کی اطاعت کون کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں انکار کرتا ہے۔ “ (البقرۃ : ١٤٢)
(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : لنعلم کا معنی یہ ہے کہ یقین والوں اور شک کرنے والوں میں تمیز کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَ اِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللَّہُ } ” یقیناً یہ بڑا مشکل ہے، مگر اللہ نے جن کو ہدایت سے نوازا (ان پر گراں نہیں ہے) “ (البقرۃ ١٤٣) یعنی تحویل قبلہ شک والوں پر گراں ہے۔ { اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللَّہُ } ” مگر ڈرنے والوں پر۔ “ (البقرۃ : ١٤٣) یعنی اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تصدیق کرنے والوں پر بھاری نہیں ہے۔
(ج) امام شافعی (رح) اللہ تعالیٰ کے فرمان :{ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : الآیۃ : ١١٥) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرف ہے جس طرف اس نے تمہیں متوجہ کیا ہے۔