(۲۲۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ ، وَأَنَا أُکَلِّمُہُ فِی أَنْ یَفْرِضَ لِی ، فَلَمْ أَزَلْ أُکَلِّمُہُ وَہُوَ یُسَوِّی الْحَصْبَائَ بِنَعْلَیْہِ حَتَّی جَائَ ہُ رِجَالٌ ، قَدْ وَکَّلَہُمْ بِتَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ ، فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ فَقَالَ لِی: اسْتَوِ فِی الصَّفِّ ۔ ثُمَّ کَبِّرَ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۳۷۴]
(٢٢٩٣) ابو سہیل بن مالک اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ تھا۔ اقامت کہہ دی گیٔ جب کہ میں ان سے اپنے حصے کے بارے میں باتیں کررہا تھا، میں ان سے مسلسل باتیں کرتا رہا اور وہ اپنے پاؤں سے چٹائی کو سیدھا کر رہے تھے، حتیٰ کہ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے تو آپ نے ان کو صفوں کی درستگی پر مامور کیا۔ پھر انھوں نے آکر خبر دی کہ صفیں درست ہوچکی ہیں تو آپ نے مجھے فرمایا : صف میں برابر ہوجاؤ، پھر آپ نے تکبیر کہی۔