(۲۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَۃِ قَالَ: صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ یَوْمًا فَقَالَ: ہَلْ تَدْرِی لِمَ صُنِعَ ہَذَا الْعُودُ؟ قُلْتُ: لاَ وَاللَّہِ۔ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَضَعُ عَلَیْہِ یَدَہُ فَیَقُولُ: ((اسْتَوُوا ، اعْدِلُوا صُفُوفَکُمْ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۶۹]
(٢٢٩٤) محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک (رض) کے پہلو میں نماز ادا کی تو انھوں نے مجھے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ہاتھ رکھتے تھے اور کہتے تھے :” اس تو وا، اعدلوا صفوفکم “ برابر ہوجاؤ (سیدھے ہوجاؤ) اپنی صفوں کو سیدھا کرلو۔