(۲۳۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ کَبَّرَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: وَیَقُولُ حِینَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بَعْدَ التَّکْبِیرِ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ))۔ فَذَکَرَہُ وَقَالَ: ((وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، سُبْحَانَکَ أَنْتَ رَبِّی ، وَأَنَا عَبْدُکَ))۔ فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: ((وَاہْدِنِی))۔ إِلَی قَوْلِہِ ((لَبَّیْکَ)) ثُمَّ قَالَ: ((لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ، لاَ مَنْجَا مِنْکَ إِلاَّ إِلَیْکَ، أَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ ثُمَّ ذَکَرَ الْبَاقِیَ بِمَعْنَی حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَحَدِیثُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَتَمُّ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٣٤٥) حضرت علی بن ابی طالب (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے۔ ْپھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ تکبیر کے بعد جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے : ” وجہت وجہی۔۔۔ “ مکمل دعا ذکر کی اور ” وانا من المسلمین۔۔۔ “ ” اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا معبود برحق کوئی نہیں۔ تو پاک ہے۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ “ پھر مکمل دعا ذکر کی لیکن ” واہدنی “ سے ” لبیک “ تک نہیں پڑھا، پھر ” لبیک وسعدیک انابک والیک لا منجا منک الا الیک استغفر ثم اتوب الیک “ ” اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے امید لگائے بیٹھا ہوں۔ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف کوئی پناہ نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں، پھر تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “
پھر عبدالعزیز کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی اور عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔