(۲۳۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ ثُمَّ یَقُولُ: سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ۔ ثُمَّ یَتَعَوَّذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ثُمَّ یَقْرَأُ مَا بَدَا لَہُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم ۲۳۵۰]
(٢٣٥٨) اسود بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) جب نماز شروع کرتے تو کہتے : اللہ اکبر، پھر کہتے : سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ۔ ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور میں تیری تعریف کے ساتھ تجھے یاد کرتا ہوں اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “
پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورة فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔