(۲۳۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ: أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَؤُمُّ النَّاسَ رَافِعًا صَوْتَہُ: رَبَّنَا إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ۔ فِی الْمَکْتُوبَۃِ إِذَا فَرَغَ مِنْ أُمِّ الْقُرْآنِ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَتَعَوَّذُ فِی نَفْسِہِ ، وَأَیَّہُمَا فَعَلَ الرَّجُلُ أَجْزَأَہُ ، وَکَانَ بَعْضُہُمْ یَتَعَوَّذُ حِینَ یَفْتَتِحُ قَبْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَبِذَلِکَ أَقُولُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالأَحَادِیثُ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ یَتَعَوَّذُ قَبْلَ الْقِرَائَ ۃِ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَیَقُولُہُ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ وَعَطَائُ وَإِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ قِیلَ إِنْ قَالَہُ حِینَ یَفْتَتِحُ کُلَّ رَکْعَۃٍ قَبْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ فَہُوَ حَسَنٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَیُحْکَی عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ کَانَ یَسْتَعِیذُ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ۔
(٢٣٥٩) (ا) صالح بن ابو صالح سے روایت ہے کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) کو لوگوں کو امامت کرواتے ہوئے دیکھا۔ آپ آواز سے یہ کلمات پڑھ رہے تھے : رَبَّنَا إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اپنے دل میں تعوذ پڑھتے تھے، لہٰذا بلند یا آہستہ دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔ بعض سورة فاتحہ سے بھی پہلے تعوذ پڑھ لیتے تھے اور یہی میرا قول ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے والے باب کی روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کہ تعوذ قراءت سے پہلے پڑھا جائے۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ تعوذ پہلی رکعت میں پڑھا جائے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ حسن، عطا، ابراہیم نخعی کا بھی یہی قول ہے۔
(ھ) امام شافعی (رح) کا ایک قول یہ بھی ہے کہ تعوذ ہر رکعت میں سورة فاتحہ سے پہلے پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
(و) شیخ فرماتے ہیں کہ ابن سیرین سے منقول ہے کہ وہ ہر رکعت میں تعوذ پڑھتے تھے۔