(۲۳۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُوحَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُوالطَّیِّبِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونَ الذُّہْلِیُّ وَکَتَبَہُ لِی بِخَطِّہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَقُولُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: قَسَمْتُ ہَذِہِ السُّورَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: ذَکَرَنِی عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ: مَجَّدَنِی عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} قَالَ: ہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ]
(٢٣٦٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے یہ سورة (فاتحہ) اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کرلی ہے۔ جب جب بندہ کہتا ہے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میرا ذکر کیا ہے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے : ” الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے : ” مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔