hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2369

.

سنن البيهقي

2369
Sunan Al Bayhaqi
(۲۳۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَزْرَقُ یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُہْلُولٍ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ))۔ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ فِی أَوَّلِہِ ثُمَّ زَادَ التَّسْمِیَۃَ ، وَقَالَ فِی آخِرِ الْحَدِیثِ: ((فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، وَآخِرُ السُّورَۃِ لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ: ابْنُ سَمْعَانَ ہُوَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ۔ وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَابْنُ عَجْلاَنَ وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ وَأَبُو أُوَیْسٍ وَغَیْرُہُمْ عَلَی اخْتِلاَفٍ مِنْہُمْ فِی الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْہُمْ عَلَی الْمَتْنِ ، فَلَمْ یَذْکُرَ أَحَدٌ مِنْہُمْ فِی حَدِیثِہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَاتِّفَاقُہُمْ عَلَی خِلاَفِ مَا رَوَاہُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَی بِالصَّوَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٣٦٩) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز نامکمل اور ناقص ہے۔
(ب) انھوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن بسم اللہ کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم