(۲۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ یَعْنِی ابْنَ عَلِیٍّ الْجُعْفِیَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ وَہُوَ زَوْجُ أُخْتِ حُسَیْنٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جِرْوَلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی الْقُرْآنِ عَلَی عَہْدِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَقُولُ لِلرَّجُلِ قِرَائَ تِی خَیْرٌ مِنْ قِرَائَ تِکَ۔ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَمَعَنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا الْیَوْمَ فِی الْقِرَائَ ۃِ ، وَأَنْتُمْ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ ، فَقَدْ رَأَیْتُ أَنْ أَجْمَعَہُمْ عَلَی قِرَائَ ۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ قَالَ: فَاجْتَمَعَ رَأْیُنَا مَعَ رَأْیِہِ عَلَی ذَلِکَ قَالَ وَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: لَوْ وُلِّیْتُ مِثْلَ الَّذِی وُلِّیَ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِی صَنَعَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۳۹/ ۲۴۵]
(٢٣٧٥) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں قرآن میں اختلاف کیا۔ حتیٰ کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا : میری قرائت، تیری قرات سے بہتر ہے۔ جب حضرت عثمان (رض) کو اس کی خبر پہنچی تو انھوں نے ہم سب صحابہ کو جمع کر کے فرمایا : لوگ آج قراءت میں اختلاف کرچکے ہیں حالانکہ تم ان میں موجود ہو۔ میرا خیال ہے کہ میں انھیں ایک ہی قراءت پر جمع کر دوں۔ علی (رض) فرماتے ہیں : ہماری رائے بھی حضرت عثمان (رض) کی رائے کے موافق ہوگئی اور فرمانے لگے : جس طرح کا معاملہ عثمان (رض) کے ساتھ پیش آیا۔ اگر اس طرح میرے ساتھ ہوتا تو ضرور میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے عثمان (رض) نے کیا ہے۔