hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2376

.

سنن البيهقي

2376
Sunan Al Bayhaqi
(۲۳۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَوْفُ عَنْ یَزِیدَ الْفَارِسِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا حَمَلَکُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی بَرَائَ ۃَ وَہِیَ مِنَ الْمِئِینَ وَإِلَی الأَنْفَالِ وَہِیَ مِنَ الْمَثَانِی فَقَرَنْتُمْ بَیْنَہُمَا ، وَلَمْ تَجْعَلُوا بَیْنَہُمَا سَطْرًا فِیہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَوَضَعْتُمُوہَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ ، مَا حَمَلَکُمْ عَلَی ذَلِکَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ مِمَّا یَنْزِلُ عَلَیْہِ مِنَ السُّوَرِ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا ، فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ الآیَاتُ یَقُولُ: ضَعُوا ہَذِہِ الآیَاتِ فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ۔ وَکَانَ إِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ السُّورَۃُ یَقُولُ: ضَعُوا ہَذِہِ فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ۔ وَکَانَتِ الأَنْفَالُ أُوَّلَ مَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَتْ بَرَائَ ۃُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُولاً ، وَکَانَتْ قِصَّتُہَا تُشْبِہُ قِصَّتَہَا ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یُبَیِّنْ أَمْرَہَا ، فَظَنَنْتُ أَنَّہَا مِنْہَا مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ قَرَنْتُ بَیْنَہُمَا ، وَلَمْ أَجْعَلْ بَیْنَہُمَا سَطْرًا فِیہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَوَضَعْتُہَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ۔ فَفِی ہَذَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی مَصَاحِفِ الصَّحَابَۃِ مَعَ دِلاَلَۃِ الْمُشَاہَدَۃِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی فَوَاتِحِ السُّورِ لِنُزُولِہَا ، وَعِنْدَ نُزُولِہَا کَانَ یُعْلَمُ انْقِضَائُ سُورَۃٍ وَابْتِدَائِ أُخْرَی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۶]
(٢٣٧٦) (ا) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عثمان (رض) سے کہا : تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم نے سورة توبہ کو جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات ٢٠٠ (دو سو) کے قریب ہیں اور سورة انفال کو جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات اسی (٨٠) کے قریب ہیں ملا دیا ہے اور تم نے ان دونوں کے درمیان سطر بھی نہیں چھوڑی، جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہو اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ہے ؟ تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وہ سورتیں نازل ہوتی تھیں جن میں فلاں فلاں چیزیں ذکر کی جاتی ہیں۔ جب آپ پر آیات نازل ہوتیں تو آپ فرماتے : ان آیات کو فلاں فلاں جگہ پر رکھو اور جب آپ پر کوئی (مکمل) سورت نازل ہوتی تو فرماتے : اس سورت کو فلاں جگہ پر رکھو (لکھو) اور سورة انفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور سورة توبہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ (یعنی ان دونوں سورتوں کا مضمون ملتا جلتا ہے، لیکن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور ان کے معاملے کو واضح نہ کیا تو میں نے گمان کیا شاید یہ (توبہ) بھی اس (انفال) کا حصہ ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو قریب قریب رکھا اور میں نے ان کے درمیان سطر نہیں چھوڑی کہ جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھتا اور اس کو بھی میں نے سات لمبی سورتوں میں رکھا۔
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کرچکے ہیں جو ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورة ختم ہوگئی ہے اور دوسری شروع ہوچکی ہے۔