(۲۳۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَیْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ الْمَکِّیُّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی ذِکْرِ الإِفْکِ قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ: ((أَعُوذُ بِالسَّمِیعِ))- أَوْ قَالَ ((أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ - مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ})) الآیَۃَ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَخَافُ أَنْ یَکُونَ أَمْرُ الاِسْتِعَاذَۃِ مِنْ کَلاَمِ حُمَیْدِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَالنَّبِیُّ -ﷺ- قَرَأَ (بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ) عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَۃٍ وَلَمْ یَقْرَأْہَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آیَاتٍ لَمْ تَکُنْ أَوَّلَ سُورَۃٍ ، وَفِی ذَلِکَ تَأْکِیدٌ لَمَّا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی الْمَصَاحِفِ حَیْثُ نَزَلَتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۳]
(٢٣٨١) (ا) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے واقعہ افک سے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تھے، آپ نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور یہ آیت تلاوت کی : أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ } [النور : ١١] ۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ سورة شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم