(۲۳۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ وَجَرِیرٌ یَعْنِی ابْنَ حَازِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: کَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَمُدُّ {بِسْمِ اللَّہِ} وَیَمُدُّ {الرَّحْمَنِ} وَیَمُدُّ {الرَّحِیمِ}۔
[صحیح۔ بدون ذکر البمسلۃ، تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٣٩٣) قتادہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک (رض) سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قراءت کیسی ہوتی تھی ؟ انھوں نے فرمایا کہ آپ لمبا لمبا کر کے پڑھتے تھے، پھر انھوں نے ” بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم “ پڑھی بسم اللہ پر مد کی اور الرحمن کو اور الرحیم کو بھی لمبا کیا۔