(۲۴۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ: عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا أَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الأُولَی وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ قُلْنَا: بِأَیِّ شَیْئٍ کُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاکَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْیَتِہِ۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحِینِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ (ق) وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّہُ لاَ بُدَّ مِنْ أَنْ یُحَرِّکَ لِسَانَہُ بِالْقِرَائَ ۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۴۶]
(٢٤٣٢) (ا) ابو معمر عبداللہ بن سخبرہ سے روایت ہے کہ ہم نے خباب (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت تھے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! ہم نے پوچھا : تم یہ کس طرح پہچانتے تھے ؟ تو انھوں نے بتایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کے حرکت کرنے سے۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ دورانِ قراءت زبان کو حرکت دینا ضروری ہے۔