(۲۴۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ: أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یُؤَذِّنُ لِمَرَوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ، فَاشْتَرَطَ أَنْ لاَ یَسْبِقَہُ بِالضَّالِّینَ حَتَّی یَعْلَمَ أَنَّہُ قَدْ دَخَلَ الصَّفَ ، فَکَانَ إِذَا قَالَ مَرْوَانُ {وَلاَ الضَّالِّینَ} قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: آمِینَ۔ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ وَقَالَ: إِذَا وَافَقَ تَأْمِینُ أَہْلِ الأَرْضِ تَأْمِینَ أَہْلِ السَّمَائِ غُفِرَ لَہُمْ۔ [صحیح۔ وتقدم رقم ۲۴۳۶]
(٢٤٥٣) ابو رافع سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) مروان بن حکم کے مؤذن تھے۔ اس نے طے کر رکھا تھا کہ اس وقت تک { وَلاَ الضَّالِّینَ } نہ کہے جب تک اسے علم نہ ہوجائے کہ ابوہریرہ (رض) صف میں شامل ہوچکے گئے ہیں، چنانچہ مروان جب { وَلاَ الضَّالِّینَ } کہتا تو ابوہریرہ (رض) اپنی آواز کو لمبا کرتے ہوئے کہتے : آمین ۔ آپ (رض) فرماتے تھے کہ جب اہل زمین کی آمین آسمان والوں کی آمین کے موافق ہوجائے تو اہل زمین کی بخشش ہوجاتی ہے۔