(۲۴۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ قَالَ: کُنْتُ أَسْمَعُ الأَئِمَّۃَ ابْنَ الزُّبَیْرِ وَمَنْ بَعْدَہُ یَقُولُونَ آمِینَ وَمَنْ خَلْفَہُمْ آمِینَ حَتَّی إِنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّۃً۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ بِہَا صَوْتَہُ إِمَامًا کَانَ أَوْ مَأْمُومًا۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری تعلیقا]
(٢٤٥٤) (ا) عطاء سے روایت ہے کہ میں نے ابن زبیر اور ان کے بعد والے ائمہ سے سنا کہ وہ بھی آمین کہتے اور ان کے مقتدی بھی آمین کہتے، حتیٰ کہ مسجد گونج اٹھتی۔
(ب) ابن عمر (رض) سے بھی منقول ہے کہ وہ اونچی آواز سے آمین کہتے خواہ امام ہوں یا مقتدی۔