(۲۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصَّلاَۃَ ، فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدْیَہِ ، فَلَمَّا رَکَعَ طَبَّقَ یَدْیَہِ بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ۔ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِی، قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ ہَذَا ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِہَذَا یَعْنِی الإِمْسَاکَ عَلَی الرُّکْبَتَیْنِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: فَإِنْ کَانَ الْحَدِیثُ عَلَی مَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ فَقَدْ یَکُونُ عَادَ لِرَفْعِہِمَا فَلَمْ یَحْکِہِ ، وَإِنْ کَانَ عَلَی مَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ فَفِی حَدِیثِ ابْنِ إِدْرِیسَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی صَدْرِ الإِسْلاَمِ ، کَمَا کَانَ التَّطْبِیقُ فِی صَدْرِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ سُنَّتْ بَعْدَہُ السُّنَنُ ، وَشُرِّعَتْ بَعْدَہُ الشَّرَائِعُ حَفِظَہَا مَنْ حَفِظَہَا وَأَدَّاہَا فَوَجَبَ الْمَصِیرُ إِلَیْہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ ۵۹۵]
(٢٥٣٢) (ا) علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود (رض) ) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز سکھائی۔ آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان میں لٹکا دیا۔ علقمہ کہتے ہیں : جب یہ بات سعد کے پاس پہنچی تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی نے سچ کہا، پہلے ہم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ پھر ہمیں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا (یعنی ان کو اوپر سے مضبوطی سے پکڑنے کا) ۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث اس طرح ہو جس طرح عبداللہ بن ادریس نے روایت کی ہے تو اس میں رفع یدین دوبارہ کرنے کو بیان نہیں کیا گیا اور اگر اس طرح ہو جیسے ثوری نے روایت کیا ہے تو ابن ادر یس کی حدیث سے معلوم ہے کہ یہ کام اسلام کے ابتدائی دور میں تھا جیسا کہ ہاتھ گھٹنوں کے درمیان لٹکانا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ پھر اس کے بعد طریقے بدلتے رہے اور شریعت ارتقا کے منازل طے کرتی رہی (یعنی بتدریج احکام میں تبدیلی آتی رہی) ۔ جس نے ان کو یاد کرنا تھا یاد کرلیا اور ان کو آگے پہنچایا اب ان پر عمل کرنا ضروری ہوگیا۔