(۲۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یَقُولُ: لَمْ یَثْبُتْ عِنْدِی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَفَعَ یَدْیَہِ أَوَّلَ مُرَّۃٍ ، ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ۔ وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِی حَدِیثُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ ذَکَرَہُ عُبَیْدُ اللَّہِ وَمَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ: وَأُرَاہُ وَاسِعًا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَرْفَعُ یَدْیَہِ فِی الصَّلاَۃِ لِکَثْرَۃِ الأَحَادِیثِ وَجَوْدَۃِ الأَسَانِیدَ۔ [صحیح۔ انظر ۲۵۳۰]
(٢٥٣٣) سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی حدیث کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا “ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبید اللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصۃ نے زہری سے، انھوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر سے اور ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک (رح) کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے۔ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔