(۲۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ: مَا مَعْنَی رَفْعِ الْیَدَیْنِ عِنْدَ الرُّکُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَی رَفْعِہِمَا عِنْدَ الاِفْتِتَاحِ ، تَعْظِیمًا لِلَّہِ وَسُنَّۃً مُتَّبَعَۃً یُرْجَی فِیہَا ثُوَابُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِثْلُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَغَیْرِہِمَا۔ [صحیح]
(٢٥٣٧) ربیع بن سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رض) سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔
(پھر فرمایا :) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔