hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2539

.

سنن البيهقي

2539
Sunan Al Bayhaqi
(۲۵۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَرْوَزِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَکُونِیُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ: اجْتَمَعَ الأَوْزَاعِیُّ وَالثَّوْرِیُّ بِمِنًی ، فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ لِلثَّوْرِیِّ: لِمَ لاَ تَرْفَعُ یَدَیْکَ فِی خَفَضِ الرُّکُوعِ وَرَفْعِہِ؟ فَقَالَ الثَّوْرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ۔ فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ: أَرْوِی لَکَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَتُعَارِضُنِی بِیَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، وَیَزِیدُ رَجُلٌ ضَعِیفُ الْحَدِیثِ ، وَحَدِیثُہُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّۃِ۔ قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْہُ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ ، فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ: کَأَنَّکَ کَرِہْتَ مَا قُلْتُ؟ قَالَ الثَّوْرِیُّ: نَعَمْ۔ قَالَ الأَوْزَاعِیُّ: قُمْ بِنَا إِلَی الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَیُّنَا عَلَی الْحَقِّ۔ قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِیُّ لَمَّا رَأَی الأَوْزَاعِیَّ قَدِ احْتَدَّ۔ [موضوع الشاذ۔ کوفی کذا بان]
(٢٥٣٩) سلیمان بن داؤد شاذ کونی فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی اور سفیان ثوری ; منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی نے ثوری سے کہا : آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟ ثوری نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے تو امام اوزاعی نے فرمایا : میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے ؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری کا چہرہ سرخ ہوگیا تو اوزاعی نے کہا : لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے ؟ تو ثوری نے کہا : جی ہاں ! اوزاعی نے کہا : ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہوجاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری نے جب دیکھا کہ اوزاعی غصہ ہوگئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔