(۲۵۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ عَنْ صِلَۃَ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، فَاسْتَفْتِحْ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فَقُلْتُ: یَقْرَأُ مِائَۃَ آیَۃٍ ، ثُمَّ یَرْکَعُ فَمَضَی ، فَقُلْتُ: یَخْتِمُہَا ثُمَّ یَرْکَعُ ، فَمَضَی حَتَّی قَرَأَ سُورَۃَ النِّسَائَ وَآلَ عِمْرَانَ ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ فَیَقُولُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ))۔ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ))۔ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ یَقُولُ فِی سُجُودِہِ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی)) ۔ لاَ یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخْوِیفٌ وَتَعْظِیمٌ إِلاَّ ذَکَرَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۷۷۲]
(٢٥٥٤) حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة بقرۃ شروع کردی۔ میں نے (دل میں) سوچا شاید آپ (صرف) سو آیتیں پڑھیں گے ، پھر رکوع فرمائیں گے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزید پڑھتے چلے گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ آپ سورة مکمل کرکے رکوع کریں گے لیکن آپ پڑھتے رہے، حتیٰ کہ آپ نے سورة نساء اور آل عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام کے برابر (لمبا) رکوع کیا اور تسبیح پڑھتے رہے۔ پھر اپنا سر اٹھایا تو فرمایا : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ (اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے پروردگار اللہ ! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح لمبا قومہ کیا۔ پھر سجدہ کیا تو سجدے میں بھی دیر تک سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی ” پاک ہے میرا رب جو بہت بلند ہے ‘ پڑھتے رہے۔ کوئی بھی خوف یا تعظیم کی آیت پڑھتے تو اللہ کو یاد کرتے۔