(۲۶۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ قَالَ یَوْمًا وَذَلِکَ فِی غَیْرِ وَقْتِ صَلاَۃٍ: أَلاَ أُرِیکُمْ کَیْفَ کَانَ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَامَ فَأَمْکَنَ الْقِیَامَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَمْکَنَ الرُّکُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَانْتَصَبَ قَائِمًا ہُنَیْئَۃً۔ قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ: صَلَّی بِنَا صَلاَۃَ شَیْخِنَا ہَذَا أَبِی بُرَیْدٍ، وَکَانَ أَبُو بُرَیْدٍ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ الأَخِیرَۃِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الأُولَی اسْتَوَی قَاعِدًا ثُمَّ نَہَضَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، أَبُو بُرَیْدٍ بِالْبَائِ وَالرَّائِ ہُوَ عَمْرُو بْنُ سَلِمَۃَ الْجَرْمِیُّ ، کَنَّاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۶۹]
(٢٦٢٢) جناب ابو قلابہ (رض) حضرت مالک بن حویرث (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک دن فرمایا اور یہ نماز کے وقت کے علاوہ کوئی وقت تھا۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کیسی تھی ؟ پھر آپ (رض) کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع بھی دیر تک کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو (کچھ دیر) کے لیے سیدھے کھڑے رہے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ مالک نے ہمارے شیخ ابو یزید کی طرح نماز پڑھی۔ ابویزید جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو (فوراً کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ) بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔