(۲۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَتَخَلَّفْتُ مَعَہُ فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَہُ قَالَ: ((ہَلْ مَعَکَ مَائٌ؟))۔ فَأَتَیْتُہُ بِمَطْہَرَۃٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ، ثُمَّ ذَہَبَ یَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَیْہِ فَضَاقَ کُمُّ الْجُبَّۃِ ، فَأَخْرَجَ یَدَیْہِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ ، وَأَلْقَی الْجُبَّۃَ عَلَی مَنْکِبَیْہِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی الْعِمَامَۃِ وَعَلَی خُفَّیْہِ۔وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَزِیعٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۷۴]
(٢٦٧) حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (نماز سے) پیچھے رہ گئے، میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس پانی ہے ؟ میں پانی کا ایک برتن لے آیا تو آپ نے اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں کو نکالنا شروع ہوئے، جبے کی آستین تنگ ہوگئی تو اپنے ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور جبے کو اپنے کندھوں پر ڈال دیا۔ پھر اپنے بازؤ وں کو دھویا اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔۔۔