(۲۷۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الطَّرَسُوسِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ یَقُولُ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ قَالَتْ عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ مَعِی عَلَی فِرَاشِی ، فَوَجَدْتُہُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَیْہِ مُسْتَقْبِلاً بِأَطْرَافِ أَصَابِعِہِ الْقِبْلَۃَ ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ ، وَبِعَفْوِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ ، وَبِکَ مِنْکَ ، أُثْنِی عَلَیْکَ لاَ أَبْلُغُ کُلَّ مَا فِیکَ))۔ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ أَخَذَکِ شَیْطَانُکِ))۔ فَقُلْتُ: أَمَا لَکَ شَیْطَانٌ؟ قَالَ: ((مَا مِنْ آدَمِیٍّ إِلاَّ لَہُ شَیْطَانٌ))۔ فَقُلْتُ: وَأَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ((وَأَنَا ، لَکِنِّی دَعَوْتُ اللَّہَ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ))۔
[صحیح۔ اخرجہ غیر واحد عن عائشہ]
(٢٧١٩) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ساتھ میرے بستر پر تھے ، رات کو میں نے آپ کو گم پایا ۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے کی حالت میں ہیں۔ آپ کی ایڑیاں مضبوطی سے ملی ہوئی تھیں اور انگلیوں کے کنارے آپ نے قبلہ رخ کر رکھے تھے۔ میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں تیرے غصے سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور تیرے عذاب سے تیری معافی چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ۔ پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے : اے عائشہ ! تجھے تیرے شیطان نے پکڑ لیا ہے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کے ساتھ بھی شیطان ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہر آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کے ساتھ بھی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں میرے ساتھ بھی تھا، لیکن میں نے اللہ سے اس کے بارے دعا کی تو اللہ نے اسے میرا مطیع کردیا۔