(۲۷۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ یَعْنِی ابْنَ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُمَیٍّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ قَالَ: شَکَوْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الاِعْتِمَادَ وَالاِدِّعَامَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَرَخَّصَ لَہُمْ أَنْ یَسْتَعِینَ الرَّجُلُ بِمِرْفَقَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ أَوْ فَخِذَیْہِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ سُمَیٍّ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: شَکَا أَصْحَابُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ: وَہَذَا أَصَحُّ بِإِرْسَالِہِ۔ [ضعیف لانہ مرسل]
(٢٧٢١) (ا) نعمان بن ابی عیاش فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز میں ٹیک لگانے اور سہارا لینے کی اجازت چاہی تو آپ نے ہمیں رخصت دے دی کہ آدمی اپنی کہنیوں کے ساتھ اپنے گھٹنوں اور رانوں پر سہارا لے لے۔
(ب) اسی طرح سفیان ثوری سمی سے اور وہ نعمان سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے شکایت کی۔۔۔ انھوں نے یہ حدیث مرسل ذکر کی ہے۔
امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔