(۲۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ صَفْوَانَ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ
عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَہُمَا یُقْعِیَانِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِہِمَا۔
قَالَ إِبْرَاہِیمُ: فَسَأَلَتُ عَطَائً عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ: أَیَّ ذَلِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَکَ ، إِنْ شِئْتَ عَلَی أَطْرَافِ أَصَابِعِکَ ، وَإِنَ شِئْتَ عَلَی عَجُزِکَ۔
فَہَذَا الإِقْعَائُ الْمُرَخَّصُ فِیہِ أَوِ الْمَسْنُونُ عَلَی مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہُوَ أَنْ یَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ عَلَی الأَرْضِ ، وَیَضَعَ أَلْیَتَیْہِ عَلَی عَقِبَیْہِ وَیَضَعَ رُکْبَتَیْہِ بِالأَرْضِ۔[صحیح]
(٢٧٣٨) (ا) طاوس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور ابن عباس (رض) کو دیکھا وہ دونوں نماز میں سجدوں کے درمیان جلسہ میں اپنے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھتے تھے۔
(ب) ابراہیم کہتے ہیں : میں نے عطا سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ ان میں سے جو طریقہ بھی اختیار کرلو تمہیں کفایت کر جائے گا۔ اگر چاہو تو پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر بیٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو اپنی مقعد پر بیٹھ جاؤ۔
(ج) یہ جائز یا مسنون اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنا) ہیجس کے بارے میں ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے روایات ذکر کرچکے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے زمین پر رکھے اور اپنی سرین کو اپنی ایڑیوں پر رکھے اور گھٹنے زمین پر ہوں۔