(۲۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ أَنَّ مَالِکَ بْنَ الْحُوَیْرِثِ قَالَ لأَصْحَابِہِ: أَلاَ أُرِیکُمْ کَیْفَ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَذَاکَ فِی غَیْرِ حِینِ صَلاَۃٍ ، فَقَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَامَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ انْتَظَرَ ہُنَیَّۃً ، ثُمَّ سَجَدَ۔
قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ: صَلَّی صَلاَۃَ شَیْخِنَا ہَذَا یَعْنِی عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَ۔
قَالَ أَیُّوبُ: وَکَانَ عَمْرُو یَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَی النَّاسَ یَصْنَعُونَہُ ، کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ آخِرِ السَّجْدَتَیْنِ فِی الأُولَی وَالثَّالِثَۃِ اسْتَوَی قَاعِدًا ، ثُمَّ یَقُومُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۱۹]
(٢٧٤٦) (ا) ابوقلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث (رض) نے اپنے شاگردوں سے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا طریقہ نہ بتلاؤں ؟ اس وقت فرض نماز کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا پھر سجدے سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر دوسرا سجدہ کیا۔
(ب) ابوقلابہ کہتے ہیں : انھوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔
(ج) ایوب کہتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، وہ جب پہلی اور تیسری رکعت میں دونوں سجدوں سے اٹھتے تو سیدھے بیٹھ جاتے تھے ، پھر اس کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔